Tag » PPP

Upcoming Article...

Writing an Article on the topic “The Honorable Target Killers”,

Soon Publish it, Stay Tuned…

#Pakistan

The fall of the PPP by Ralph Ramkarran

Dis right chere is bare laff. Excellent look inside theadnrss
Hope Ralph and all others with secretos don’t take them to de grave. Speak and speak it ever… 147 more words

Guyana

A Guide to the Ideologies of Political Parties in Ghana

A political party’s ideology guides its economic, social, governance, legal and foreign policies. One of the most vivid methods by which an ideology can be visualised is by the description of an ideal world as envisioned by the adherents of that ideology. 1.017 more words

Politics

Dexter Whifield on the past and future of PFI

Dexter Whitfield, the director of the European Services Strategy Unit, has written several books about the issue of privatisation.

One that particularly caught PFeye’s eye, … 412 more words

PFI

PPP descending into madness #guyana

when madness trek ova it does trek ova. PPP crooks being consumed by madness and it’s a tragicomical affair of grandiose proportionalities

PEOPLE’S PROGRESSIVE PARTY/CIVIC PRESS STATEMENT… 73 more words

Guyana

بلدیاتی انتحابات 2015,این اے 4, اور زرداری کا دورےِ پشاور

30 مئی 2015 کے دن خیبرپختونخوا کے تاریخ کے سب سے اہم بلدیاتی انتحابات ہونے جا رہے ہے. باظاہر تو ضلعی اور تحصیل سیٹوں پر انتحابات سیاسی بینیاد جبکے دیگر سیٹوں جن میں جنرل,خواتین, مذدور کسان ,نوجوان اور اقلیت غیر سیاسی ہونے کے باوجود سیاسی درجہ حرارت اپنے عروج پر ہے. پارٹی رہنماوں کی تصاویر, جھنڈوں اور ممنوع سائز کے فلیکسوں کا استعمال بے دریغ کیا جا رہا ہے.. 30 مئی کے دن 41762 سیٹوں پر 84420 اُمیدوار مدمقابل ہونگے.جس میں جنرل کونسلر کے 23111 سیٹوں پر 39079، خواتین کونسلر کے 6678سیٹوں پر 7681، مذدور کسان کے 3339 سیٹوں پر 15700، یوتھ کونسلر کے 3339 سیٹوں پر 14224، اقلیت کے 3339 سیٹوں پر 349 اُمیدوار مدمقابل ہونگے. بلدیاتی انتحابات جہاں اِختیارات کے نچلی سطح پر منتقلی کی وجہ سے اہمیت کے حامل ہے وہی پر حکمران جماعتوں بلحسوس پاکستان تحریکِ انصاف کی آئندہ سیاسی سفر کے حوالے سے بھی اہم ہے. زمینی اور سیاسی حقائق کو مدنظر رکھا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف ساٹھ سے ستر فیصد سیٹوں پر کامیاب ہوگئی. پاکستان تحریکِ انصاف کے جلسوں میں وہی جوش, ولولا دیکھا جاسکتا ہے جو عام انتخابات مئی 2013 سے پہلے کے جلسوں اور سیاسی ملاقاتوں میں نظر آتا تھا. اگر صرف پشاور کے بات کی جائے تو این اے 1،2،3 کے زیادہ تر یونین کانسلز پر پی ٹی آئی کی کامیابی یقینی ہے جبکے این اے4 پر کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے. این اے 4 کے عوام میں حکومت کے خلاف شدید غصے اور ناراضگی کی وجہ وہ منتخب نمائندے ہے جنہوں نے ووٹ لینے کے بعد سوائے اپنے آبائی علاقوں کے اپنے خلقے کے دوسرے علاقوں میں جانے کی زہمت تک نہیں کی اور یہی وجہ ہے اس حلقے کے نامزد امیدوار اپنے جلسوں میں اپنے ہی پارٹی کی منتخب ایم این اے اور ایم پی ایز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہے . این اے 4 میں جہاں منتخب نمائندوں جن کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے سے عوام ناراض اور نالا نظر آتے ہے وہی دیگر پارٹیوں کے عہدیداران اپنے سیاسی ملاقاتوں میں اس بات سے بھرپور فائدہ اُٹھاتے ہے. این اے 4 کی سیاسی درجہ حرارت اس وجہ سے بھی عروج ہر ہے کہ واحد اسی حلقے میں مئی 2013 کے عام انتخابات میں ن لیگ کے امیدوار ناصرخان موسی زئی نے پی ٹی آئی کے گلزار خان, جمعیت علماءاسلام کے خالدوقارچمکنی نے پی ٹی آئی کے اشتیاق اُرمڑ کو ٹف ٹائیم دیا تھا. اسی حلقے میں جہاں ن لیگ کے ناصرخان موسی زئی نے بجلی کے کمبے, خراب تاریں, ٹرانسفارمرز کی تبدلی و مرمت, گریڈاسٹیشنز کی مرمت,نئے فیڈرز, کم ولٹیج, اور بیلنگ جسے درینہ مسائل حل کیے وہی جمعیت علماء اسلام ف کے خالدوقارچمکنی ,عوامی نیشنل پارٹی کے ثاقب الللہ چمکنی نے عوامی رابط مہم کے دوران منتخب نمائندوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہے.سہ فریقی اتخاد اور ن لیگ ہر ممکن کوشیش کر رہی ہے کہ 30 مئی کے بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کے سیاسی سفر کو کسی بھی طرح لگام ڈالا جائے اور
یہی وجہ ہے کہ ایک دوسرے پر قتل کے مقدمے درج کرنے والے ,مخالفین پر کفر کے فتویٰ داغنے والے,امریکہ اور بھارت کے کارندے کہنے والے, جہاد کے نام پر ڈالر کمانے کا الزام لگانے والے آج ایک ہی سٹیج پر ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر یکجہتی کا اظہار کرتے ہے..گذشتہ دنوں سابقہ صدر اور پی پی پی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری نے اپنے دورِ حکومت کے وفاقی وزیر ارباب عالمگیر خان , سابقہ وزیراعظم کی مشیر عاصمہ عالمگیر کے ہُجرے میں پارٹی عہدیداران سے انتخابی مہم کے دوران خطاب کرتے ہوئے حکمران جماعت پی ٹی آئی کی حکومت کو
جعلی پختونوں اور ناکام حکومت قرار دیا.موصوف جس جگہ کھڑے ہو کر پختونوں کے دیے گے منڈیٹ کی توہین کر رہے تھے اسی حلقے سے پی پی پی کا کوئی اُمیدوار بلدیاتی انتخابات میں حصہ نہیں لے رہا جبکے پی پی پی چار فریقی اتحاد ( ANP, JUIF ,ANP WALI, PPP) کے نامزد امیدوار جن کا تعلق جمعیت علماء اسلام ف اور اےاین پی ولی سے ہے کو سپورٹ کر رہی ہے. توقع کی جا رہی ہے کہ ٹرن آُوٹ 25 سے 30 فیصد ہوگا جس کی بڑی وجہ 30مئی کا گرم دن, 7 بیلٹ پیپرز اور ایک ویلیج کونسل / نیبرہڈ کونسل سے جنرل سیٹوں پے درجنوں امیدواروں کا کھڑا ہونا بھی ہے..جہاں عوام کا ووٹ ڈالنا لازمی ہے وہی متعلقہ اداروں کو بھی چاھے کے ایسے سہولیات مہیاکرے اور ایسے اقدامات اُٹھاے جس سے عوام بےخوف اور بے جِجک اپنی رائے کا اظہار کر سکے…