Tag » PPP

Productivity Commission re-litigates road pricing reform

In situations where demand exceeds supply, a good or service can either be rationed by queuing or rationed by price. Economic theory is clear that it is most efficient to ration by price, as the good or service goes to those with the highest willingness to pay, that is those who place the highest value on the good or service. 310 kata lagi

Transport

Zardari's "aw-position"

There once was a time when Pakistan’s parliament had an opposition and an opposition leader. The prime objective of the opposition would be to criticize the government where it erred, suggest better substitute polices, measures and laws. 783 kata lagi

Blogs

imf ranking on PPP

Acc to IMF, In October 2015

Economies in PPP

Economy % in GDP 1.     CHINA 16.4 2.     USA 16.2 3.     INDIA 6.8
  • In 2005 , China = USA /2
  • In 2020, china = 1.2 USA
Economy

Burden of proof

How will the PPP respond to corruption allegations in Karachi?

 

An anti-terrorism court on Monday granted bail to Aamir Khan – an MQM leader picked up by Rangers in the predawn raid at the party’s headquarters in Karachi on March 11, along with 26 wanted suspects. 895 kata lagi

Terrorism

پیپلزپارٹی ۔متحدہ بمقابلہ اسٹیبلشمینٹ، مقابلہ آخری مراحل میں

تحریر: ماجد صدیقی

 

سندہ میں صورتحال تیزی سے تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔شکنجہ تنگ کرنے والوں نے اسے مزید کسنا شروع کردیا ہے، تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے مزید ایک سال تک رینجرز کی سندہ میں توسیع پر کڑوے منہ ہی صحیح رضامندی ظاہر کردی ہے ، اب بس اسے سندہ اسیمبلی سے سند درکار ہے، جو آنے والے دنوں میں آسانی سے حاصل کرلی جائیگی۔ ساتھ ساتھ صوبے بھرمیں بڑے پیمانے پر سرکاری افسران کے تبادلے کی خبر بھی سامنے آچکی ہے،ظاہر ہے یہ تبادلے بھی کسی خاص مقصد کے تحت کئے گئے ہیں۔دوسری جانب متحدہ کا گھیرا بھی مزید تنگ ہورہا ہے اور اسے اپنے سیاسی ہمنوا پیپلز پارٹی سے کسی قسم کی کوئی امداد میسر نہیں ۔ ماضی کے مقابلے میں اس مرتبہ کے آپریشن کا طریقہ کار اور احداف مختلف معلوم پڑتے ہیں۔ دونوں جماعتوں کے ہاتھ پیر بندھے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کو غالبن ایک مزید لائیف لائین مل گئی ہے۔ یہ لائیف لائین حالات کی ابتری پر قابوپانے سے مشروط نظر آتی ہے۔ جبکہ متحدہ کو اس قسم کی مزید سہولت میسر نہیں۔ اقدامات کی نوعیت عندیہ دے رہی ہے کہ

اب ان کے لئے مزید مہلت ممکن نہیں۔

اس ساری صورتحال کی ابتدا اس وقت ہوئی تھی ، جب سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے سپریم کورٹ کی کراچی رجسٹری میں شہر کے ابتر حالات پر سماعت کا آغاز کیا تھا، سماعتوں کے دوران انہوں نے پولیس اور رینجرز کی ناکامی پر ان سے بڑی بازپرس کی تھی اور ان سے صورتحال کو تفصیل سے بیان کرنے کے لئے رپورٹ طلب کی تھی۔ اس وقت کے رینجرز کے سربراہ رضوان اختر ، جو آجکل ڈئریکٹر جنرل آئی ایس آئی ہیں نے سپریم کورٹ میں ایک تفصیلی رپورٹ جمع کرائی تھی ، جس میں کراچی کی صورتحال میں ملوث تمام افراد ، ان کے آپس کے تعلقات اور ان کی سیاسی وابستگیوں پر کھل کر بات کی تھی۔ اس رپورٹ میں بھتہ خوروں، قاتلوں، قبضہ مافیا اور دیگر سنگین جرائم کے پیچھے موجود شخصیات ، انکی سیاسی تنظیموں او ر ان کے مفادات کے ملنے اور ٹکرانے کی نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کا تفصیلی ذکر کیا گیا تھا۔ رینجرز نے اس نیکسس کو توڑنے کے حوالے سے سپریم کورٹ کے سامنے اپنی بے بسی کا اعتراف بھی کیا تھا۔ ظاہر ہے کرائیم اور کرپشن کے اس کارٹیل میں بڑی بڑی مچھلیاں ملوث تھیں، جن کے طاقت کا توڑ نکالناناممکن نہیں تو مشکل ضرور تھا۔ موجودہ فوجی قیادت کے مقابلے میں سابق چیف کا سرحدی یا اندرونی معاملات کے حوالے سے رویہ مختلف تھا۔ جس کی وجہ سے معاملات مسلسل خرابی کی طرف مائل رہے۔ جبکہ موجودہ عسکری قیادت ،جس کا ایک اہم رکن سابق ڈی جی رینجرز سندہ رضوان اختر بھی ہیں نے سرحدی اور اندرونی معاملات کو مختلف انداز سے نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس کے نتیجے میں ہمیں آج یہ سب کچھ ہوتا نظر آرہاہے۔

 

پیپلز پارٹی اور متحدہ ،، جو بنیادی طور پر خاموش سمجھوتے کے تحت آپس میں ہمیشہ جڑی ہوئی دکھائی دیں، اس صورتحال کی جال میں پھنستی ہوئی نظر آتی ہیں۔ دونوں جماعتوں کی قیادتوں نے سخت گیر موقف اپناکر پریشر کے ذریعے حالات اپنے حق میں کرنے کی مسلسل کوشش کی مگر یہ ساری کوششیں بارآور نہ ہوسکیں۔ زرداری صاحب تین بار ہوشیا ر ، ہوشیار ، ہوشیا ر کہتے اچانک بمع کنبہ ملک سے روانہ ہوگئے اور پیچھے بیچارے بلاول کے ناتوان کندہوں پرسارا بوجھ رکھ کر پارٹی کو دبئی سے چلانے کی کوشش کرنے لگے، موجودہ حالات میں لند ن اور دبئی سے اب سندہ پر حکمرانی کرناممکن نظرنہیں آتا ۔گذشتہ دنوں رینجرز کوتوسیع دینے کا معاملہ پیپلز پارٹی کو ایک بارگینگ چپ کی شکل میں نظر آیا ،جسے انہوں نے سیاسی حوالے سے استعمال کرنے کی کوشش بھی کی، تاہم آخر میں گھٹنے ٹیکنے پڑگئے اور تان ایک سال کی توسیع پر ہی جاکر ٹوٹی۔ زرداری صاحب کی سربراہی میں ہونے والی دبئی میٹنگ نے حالات کو اپنے حق میں کرنے کے کی کوشش کی۔ تاہم سیاسی وکٹ پر ان کی ٹیم کی کمزوری واضح دیکھی جاسکتی ہے۔ اس کی ایک بنیادی وجہ پیپلز پارٹی کے عوامی حمایت میں خطرناک حد تک کمی ہے۔ آٹے میں نمک برابر عزت کے باعث پارٹی اسٹیبلشمینٹ کے سامنے معافی کے ہاتھ پھیلائے نظر آتی ہے۔ یہ بات اب طے ہے کہ باقی ماندہ تین سال صرف سر جھکاکر ہی گذارے جاسکتے ہیں۔ اگر وہ سمجھیں تو یہ ان کے حق میں بھی ہے۔ ان کو اب روپیے پیسے کی کمی نہیں۔سند ہ میں ان کے حکومت کے تین سال ان کے مستقبل کے لئے اہم ہیں۔ وہ اس عرصے میں سندہ کے عوام کے خدمت کرکے حالات کو اپنے حق میں کرسکتے ہیں۔ یہ لائیف لائین نہ صرف اسٹیبلشمینٹ کے آہنی ہاتھ سے بچنے کے لئے اہم ہے بلکہ عوام میں اپنی جڑیں دوبارہ جوڑنے کے

لئے بھی بنیادی ہے۔

دوسری جانب متحدہ کے پاس معافی تلاشی کی گنجائش موجود نظر نہیں آتی۔ ان کی مستقل

چپقلش نے ان کے اسٹبلشمینٹ کے ساتھ تعلقات کو پوائنٹ آف نو ریٹرن پر لاکھڑا کردیا ہے۔ان کی آخری امید آصف علی زرداری نے بھی اکیلے معاملات طے کرلیے ہیں۔ جس کے لئے متحدہ کا بھاری بیگ اٹھانا ناممکن ہوچکا تھا۔ الطاف حسین نے اپنی تازہ تقریر میں کہا ہے کہ انہیں آصف علی زرداری نے دھوکہ دیا ہے۔ میں نے اپنے گذشتہ مضمون میں لکھا تھا کہ پیپلز پارٹی کے لئے متحدکے لئے مراعات لینا ناممکن ہوگا ، سو ایساہی ہوا۔ خاص طور پر اب جبکہ خودُ ٰپیپلز پارٹی کا اپنا راستہ کانٹوں سے بھرا ہوا ہے۔ سننے میں آرہا ہے کہ عید کے بعدمعاملات میں مزید تیز ی دکھائی دے گی۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ تیز ی کا تار کہاں جاکر ٹوٹتا ہے اور سیاست کے اونٹ کس کروٹ بیٹھتے ہیں اور کس کے حق میں بیٹھتے ہیں۔

Pakistan

Water Security in the Middle East: Good Practices and Sustainable Solutions

By Miguel E. Eusse Bencardino

Water scarcity in the Middle East has long been an issue due to the area’s desert climate and lack of freshwater resources… 621 kata lagi

P-P-Please let me pass this one...

Right after walking out of the CDS exam, I knew I had to schedule my next exam. I didn’t want to wait until getting the result from CDS. 594 kata lagi

ARE